1. Skip to Menu
  2. Skip to Content
  3. Skip to Footer>

خانقاہ اشرفیہ اختریہ، سرگودھا میں ماہانہ اصلاحی مجلس کے بیان کا خلاصہ

PDF Print E-mail

اور ’’جنت‘‘ کا ذکر بعد میں ہے۔اشارہ ہے کہ پہلے معافی پھر جنت۔کوئی بندہ جنت میں گناہوں کی معافی کے بغیر نہیں جا سکتا، پاک ہو کر ہی جنت میں جانا ہے۔۔ کبھی اللہ رب العزت اپنے فضل سے پاک فرماتے ہیں اور کبھی قانون عدل سے ، یعنی گناہوں کی سزا دینے کے لئے جہنم میں ڈال کر پاک فرمائیں گے۔  یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ عذاب کافر کو بھی ہو گا اور مومن فاسق کو  بھی لیکن دونوں کے عذاب میں فرق ہے۔شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی رحمتہ اللہ علیہ نے *وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُهِينٌ*(بقرۃ:90) کے تحت بڑی  عجیب بات ارشاد فرمائی ہے ، اکابرین رحمہم اللہ کو اللہ  تعالی نے عجیب علوم سے نوازا تھا ،جن کی مثال اب بمشکل ملتی ہے۔بہت دقیق اور علمی مسائل جو بڑی بڑی کتب سے بھی حل نہیں ہوتے حضرات اکابرین رحمہم اللہ کی کتب سے حل ہو جاتے ہیں۔حضرت رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’ ہر عذاب ذلت کے لئے نہیں ہوتا بلکہ مسلمانوں کو جو ان کے معاصی پر عذاب ہو گا گناہوں سے پاک کرنے کے لئے ہو گانہ بغرض تذلیل ، البتہ کافروں کو بغرض تذلیل عذاب دیا جائے گا۔‘‘ وجہ یہ ہے کہ عذاب کہتے ہیں ’’ایذا  الحئی علی سبیل الھوان‘‘ کو یعنی زندہ آدمی کو ذلیل کرنے کے لئے تکلیف دینا۔مومن چونکہ اللہ کا پیارا ہوتا ہےاور  کافر دشمن ہو تا ہے،اس لئے اگر کافر جہنم میں ڈالا جائے گا تو مقصد اس کو عذاب  دینا ہو گا اور مومن فاسق اگر جہنم میں ڈالا جائے گا تو مقصد اس کو پاک کرنا  اور تزکیہ کرنا ہو گا ،عذاب دینا نہیں ہو گا۔میں اس کی مثال دیتا ہوں مثلاً کسی  سے آپ کا جھگڑا ہوتا ہے، آپ اس کو مارتے ہیں تو یہ مارنا اس کی اصلاح کرنے کے  لئے ہوتا ہے یا اس کو ذلیل کرنے کے لئے؟ یقیناً ذلیل کرنے کے لئے اور آپ اپنے  بیٹے کو مارتے ہیں تو یہ اصلاح کے لئے ہوتا ہے ۔تو بیٹے کو بھی مارا ہے لیکن  وجہ اور ہے اور دشمن کو بھی مارا لیکن وجہ اور ہے۔  جب مغفرت ہو گی تو اب جنت ملے گی ۔چنانچہ فرمایا عرضھا السمٰوات  والارض۔اللہ رب العزت نے جنت کی چوڑائی بیان کرنے کے لئے زمین و آسمان کا ذکر  فرمایا وجہ یہ تھی کہ بندے کی عقل کا پیمانہ محدود ہے۔جنت کی لمبائی چوڑائی اس  کے ذہن میں نہیں آ سکتی تھی اس لئے باری تعالیٰ نے وہ الفاظ ارشاد فرمائے جو  اس کی عقل کے مطابق تھے۔اس لئے فرمایا کہ دیکھو زمین و آسمان میں کتنا فاصلہ  ہے ، اتنی بڑی جنت تمہیں دوں گا۔خدا کے پیمانے بہت بڑے ہیں اور بندے کی عقل بہت  چھوٹی ہے۔  لہٰذا اس بات کا ہتمام ضرورفرمائیں کہ گناہ نہ کیا کریں ۔اگر خدا نخواستہ  کبھی گناہ سرزد ہوبھی جائے تو اس کی معافی فوراً مانگا کریں۔  جن حضرات کا بیعت کا تعلق ہے وہ اس بارے میں دو باتوں کا اہتمام فرمائیں ۔  1۔ اگر گناہ ہو جائے تو اپنے شیخ کو ضرور بتائیں ۔ذہن میں ہو گا کہ میں نے گناہ  شیخ کو بتانا ہے تو یقین جانیے یہ تصور آپ کو گناہ کرنے سے روک دے گا۔ یہ بھی  یاد رکھیں کہ شیخ جو نسخہ تجویز فرمائے اس پر عمل بھی کریں پھر دیکھیں مزاج  کیسے تبدیل ہوتے ہیں اور اللہ رب العزت سے تعلق کیسے بنتا ہے۔  2۔ دوسرا یہ کہ اپنے اکابرین پر اعتماد رکھیں اور ان کی تشریحات کو اپنے لئے  مشعل راہ بنائیں۔  آخر مین حضرت شیخ حفظہ اللہ نے لاہور میں پھیلے ہوئے ڈینگی وائرس سے متاثرہ  افراد اور سند ھ میں سیلاب زدگان کے لئے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد  فرمائے اور بیماروں کو صحت نصیب فرمائے۔  

ضبط و تحریر: مفتی شبیر احمد 



تمام حضرات کی خدمت میں گذارش ہے کہ اگر آپ کو سائیٹ Exploreکرتے ہوئے کوئی Errorنظر آئے تو Contact Usکے پیچ پر جا کر ہمیں اس سے ضرور مطلع فرمائیں۔ اورمزید اپنی آراء سے ہمیں مطلع فرمائیں تاکہ سائیٹ کو مزید بہتر کیا جا سکے۔